مرد کے اندر جذبات کی گرمی زیادہ ہوتی ہے

دین میں سختی عورت سے زیادہ اللہ‎ نے مرد کیلئے رکھی کیونکہ مرد کے اندر جذبات کی گرمی زیادہ ہے پھر اس کو عورت دی تاکہ عورت مرد کی اس جذباتی گرمی کو اپنی محبّت کے احساس سے ٹھنڈا نا سہی کم از کم قابو میں ضرور رکھے مرد جذباتی فطرت سے ہوتا ہے اور عورت احساس فطرت سے کرتی ہے مرد میں احساس اختیاری ہوتا ہے جو ایمان کی وجہ سے اختیار کرتا ہے یعنی مرد احساس عادت سے کرتا ہے فطرت سے نہیں اور مرد کو احساس سیکھانے والی ایک قابل عورت ہوتی ہے ہر عورت مرد کو احساس نہیں سیکھا پاتی اسکی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت میں جذباتی پہلو اختیاری طور پر پایا جاتا ہے اکثر عورتیں مرد کی ستم ظریفی یا کم عقلی کی وجہ سے جذباتی ہو جاتی ہیں جو ایک عورت کہ لئے انتہائی خطرناک بات ہوتی ہے جذباتی عورت کا جب جذباتی مرد سے ٹکراؤ ہوتا ہے تو اکثر جذباتی عورتیں مرد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں کیونکہ “آگ کو آگ کبھی بجھا نہیں سکتی” “آگ بجھانے کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے عورت پانی کی طرح پرامن اور ٹھنڈی طبیت کی مالک ہوتی ہے”
اگر وہ اپنی فطرت کا علم رکھتی ہو لیکن فطرت کا علم ہر کوئی نہیں سمجھتا اس کیلئے عقل مندی فہم و فراست کا ہونا ضروری ہوتا ہے آج کا یہ جاہلانہ نظام ہمیں حقیقی علم سے محروم کررہا ہے ہمیں جہالت ہی جہالت سکھائی جا رہی ہے ہمارے اندر اعتدال پسند کی جگہ شدت پسندی آگئی ہے عورت مرد دونوں ہی اپنی حقیقی فطرت سے خلاف چل پڑے ہیں اس تباہی ایک دم نہیں آئی بڑا وقت لگایا ہے ہم نے جاہل ہونے میں باطل کے افسانوی کہانیوں نے ہمارے حقیقت کے فلسفے کو چھین لیا ہے اس لئے ہمیں افسانے پسند ہیں فلسفوں کی ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی اور کیسے آۓ حقیت پسندی تو ہمارے اندر سے نکل گئی ہے

By admin

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)