woman in gray hijab using macbook air

اگر بچیوں کو بنایا سنوارا جائے زینت والے کپڑے پہناہے جائیں، بالوں کو پرکشش طریقے سے بنایا جائے، لپ سٹک، سرمہ، کریم، رنگین اور خوشبودار پوڈر، ڈیزائنوں والی مہندی وغیرہ لگائی جائے تو انہیں پردہ بھی مکمل (عورتوں جیسا) کروایا جائے گا۔

دور حاضر میں بچیوں کو بڑی عورتوں والے فیشن کرانا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ عورتوں نے فتنوں کو خود اتنا بڑھا دیا ہے کہ الامان الحفیظ. جب مائیں بیوٹی پارلر سے تیار ہوکر آتی ہیں تو وہ اپنی سات سات آٹھ آٹھ سالہ بچیوں کو بھی وہیں سے تیار کرواتی ہیں یا بچیاں تیار ہونے کی ضد کرتی ہیں نتیجہ یہ کہ پانچ پانچ چھ چھ سال کی بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات رونما ہورہے ہیں. لہذا فتنوں سے بچنے کیلئے بچیوں کو سادہ اور ساتر لباس پہنانا چاہے.

وہ بچیاں جن کی عمر سات سال سے کم ہوتی ہے ان کیلئے نہ پردہ ہے نہ ستر لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں ننگا رکھا جائے یا دوسرے لوگوں کے سامنے انھیں کپڑے بدلواہے جائیں یا غیر اسلامی لباس کی عادت ڈالی جائے.

بچی میں بچپن ہی سے حیا پیدا کرنے کیلئے اسے نہ تو دوسروں کے سامنے کپڑے بدلوائیں نہ نہلائیں، نہ ناف سے گھٹنوں تک کے حصے میں دوسروں کے سامنے دوا وغیرہ لگائیں تاکہ اسے یہ پتا ہو کہ اس جگہ کو دوسروں کے سامنے ننگا کرنا بری بات ہے.

بچیوں کے کپڑوں میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ جاندار، کی تصویر نہ ہو، غیر مسلموں کے کسی شعار کی تصویر نہ ہو، لڑکوں کے مشابہ لڑکی کا لباس نہ ہو. یاد رہے کہ بچی خود مکلف نہیں لیکن والدین مکلف ہیں لھذا اگر وہ غیر اسلامی لباس بچی کو پہناتے ہیں تو ان سے رب کریم اس کا مواخذہ بھی کرے گا۔

آج کل بچیوں کو فلموں، ڈراموں والے لباس پہناہے جاتے ہیں جوکہ معاشرے میں بچیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی زیادتی کے اسباب میں سے شمار ہوتا ہے. جب بچیوں میں بچپنی سے ہی اس طرح کے لباس کی عادت دلوائیں گے تو بڑے ہوکر ہرگز مہذب لباس پہننے کو تیار نہیں ہونگے. اگر آپکو اپنی بچیوں سے محبت ہے تو انکی بچپنی سے ہی انکو مغربی لباس سے دور رکھیں، قمیض شلوار پہننے کی عادت اور کم از کم سر مکمل ڈھانپنے کی عادت ڈالیں، تاکہ بھیڑیوں سے محفوظ رہنے کا سبب بن سکے. محبت کا یہ ثبوت ہرگز نہیں کہ آپ بیٹی کی پرورش نامکمل مہنگی لباس پہنا کر کرتے رہیں اور اسکی یہ عادت بعد میں آپ کو قبر میں ڈستی رہے.

ہوسکے تو مکمل شرعی حجاب کی عادت ڈالئے، اگر اتنا ممکن نہیں ہوسکتا تو بچپن سے ہی کھلے شلوار قمیض اور چادر پہننے کی عادت ڈلوائیں، اور بےپردگی ننگے سر پھرنے،باہر نکلنے کے خطرات سے اگاہ بھی کرتے رہیں.
اگر ایک گھرانہ آج ان باتوں پر عمل کرے گا تو یہ نسل در نسل چلتا رہے گا اور ایک مہذب بیٹی، بیوی، ماں پیدا ہوتی جائیگی جوکہ صدقہ جاریہ شمار ہوگا. اور تاقیامت اہتمام کرنے والے کی قبر پر یہ عمل رحمت بن کے برستا رہیگا…

By admin

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)